تقسیم سندھ کا آغاز
گو اس موضوع پر اس مجھ سے پیشتر بھی بارہا لوگوں نے قلم اٹھایا ہےا ور اپنےاپنے نظریات کی روشنی میں صفحات کو سیاہ کیا لیکن آج پھر سے یہ ایشو سیاست کی بزم میں گرم ہے اس کی وجہ کل کی تاریخ میں میں سند اسمبلی سے پاس ہونے والا وہ لوکل باڈیز کا کالا قانون ہے جس کی رو سے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نعرہ مستانہ یعنی زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے برعکس عملی نعرہ لگایا ہے کے زندہ ہے ضیاء زندہ ہے.
میری ناقص راۓ میں پاکستان پیپلز پارٹی جو کے ابھی حالیہ عام انتخابات میں ایک عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی تھی اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کے اس انتخابات میں یہ راز بھی طشت ازبام ہوا کے پاکستان پیپلز پارٹی جو کے اس سےپہلے ایک وفاقی جماعت تصور کی جاتی تھی وہ ایک سندھ کی علاقائی جماعت بن کر سامنے آئ یا پھر سادہ الفاظ میں بلی تھیلے سے باہر آ گئی انیس سو ستر سے سندھ کے دیہی علاقے پیپلز پارٹی کا قلعہ تصور کے جاتے ہیں اور حقیقی معنوں میں ہیں بھی اس پر کوئی دو راۓ بھی نہیں لیکن آج تک اس ووٹ بنک ہنے کے جو تصورات راۓ عامہ میں پاے جاتے ہیں وہ حقیقت سے بہت دور ہیں جیسے کے اندروں سندھ پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک بھٹو فنومنا ہے اگر سطحی طور پر دیکھا جائے تو ہر شخص اس پر یقین بھی کر لیتا ہے. لکھن حقائق کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹیکے کریڈٹ پر جو بڑے کارنامے ہیں وہ ایک سندھی قوم پرست جماعت کے تو ہو سکتے ہیں لیکن ایک وفاق پسند سیاسی جماعت کے نہیں ہو سکتے.
انیس سو بہترکا لسانی بل
مہاجر کش فسادات کی سرکاری سرپرستی
کوٹا سسٹم کا اطلاق
بنیادی جمہوریتوں کے اداروں یعنی بلدیاتی اداروں کے انتخاب سے گریز
کراچی اور حیدرآباد کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوے دیہی سندھ کے افسران اور منتخب نمائندوں کو کراچی اور حیدرآباد پر مسلط کرنا اور شیری سندھ کو کسی نوآبادیاتی نظام کی طرح چلانا
یہ وہ چیدہ چیدہ عوامل ہیں جن کی رو سے ایک عام فہم انسان بھی اس جو کے کراچی اور حیدرآباد کا ساکن ہیں وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کے عملی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی ایک سندھی قوم پرست جماعت ہے اور اس کی سیاست کا محور اندروں سندھ کے سندھی زبان بولنے والے ساکنان ہیں اور انہی مندرجہ بالا کارناموں کی بنیاد پر اندروں سندھ کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کی کی حمیت کرتے ہیں اسکو ووٹ کاسٹ کرتے ہیں گو یہ ایک کامیاب سیاسی حکمت عملی ہے جس ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں ایک واضح اکثریت کے ساتھ آتی رہی ہے لیکن اس حکمت عملیکی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں میں ایک احساس محرومی کا جنم ہو چکا ہے اور ہر گزارتے دن کے ساتھ یہ حکمت عملی سندھ کے ہر شہری علاقے کے ساکن کے دل میں اس احساس کو جنم دے رہی ہے کے سندھ کے اس سیاسی انتظام میں اس کا کوئی حصہ نہیں جو کے ایک الارمنگ صورتحال ہے جسکے نتائج سندھ کے تاریخی ڈھانچے کی بنیادوں کو توڑ کر رکھ دیں گے اب تک کراچی اور حیدرآباد کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی فہم و فراست کی وجہ سے اس احساس کو تقویت نہ مل سکی لیکن کب تک آہستہ آھستہ یہ آواز ایک جائز مطالبے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے. اور ویسے بھی اس وقت پاکستان میں نیے صوبوں کے قیام اور وسائل کی مساوی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں جہاں تکمیرا اندازہ ہے کے بہت جلد یہ اس مترالبے کی بازگشت سندھ کے شہری علاقوں سے بھی سامنے آ جائے گی . اس تصور کو تقویت دینے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اس آمرانہ بلدیاتی نظام نے ایک مہمیز کا سا کام کیا ہے اب کراچی اور حیدرآباد کے ساکنان مختلف ہوٹلوں، ٹی اسٹالوں اور چوراہوں پر اس آپشن پر بات کرتے اور دلائل دیتے پاے جاتے ہیں.
ویسے بھی پاکستان کا آئین پابند ہے کے تمام شہریوں کو بنیادی جمہوری حقوق یکساں طور پر حاصل ہیں اگر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ سامنے آیا تو اس بات کے قوی آثار ہیں کے اس مطالبے کو سندھ کے شہری علاقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہو گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی پر ہو گی.
No comments:
Post a Comment