Monday, August 26, 2013

مردم شماری نا گزیر کیوں؟

کسی بھی ملک کی ترقی اور خوش حالی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی اس ملک کی سالمیت کی ضمانت دی جا سکتی ہے جن جوں ملکوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی اور عام عوام کو انکے حقوق انکے گھر کی دہلیز تک پوھنچناۓ گئے وہ آج ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں اور جن ممالک میں یہ کام نہ ہو سکے وہ ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک کہلاتے ہیں. ترقی یافتہ میں مردم شماری ایک کلیدی مقام اور حیثیت رکھتی ہے کیونکے ان ممالک  کو اس بات کا ادراک ہے کے آنے والے وقت کی تیاری اس وقت کے آنے سےپہلے ہو جانی چاہے اسی وجہ سے ان ممالک میں مردم شماری کے محکمے کو خصوصی توجہ دے جاتی ہے تاکہ اعداد و شمار میں کسی غلطی کا احتمال نہ رہے  اس مقصد کے حصول کے لئے اسٹاف کی تر بیت کی جاتی ہے اور ان سے حاصل کے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر مستقبل کے پروگرام ترتیب دے جاتے ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جاتی ہے.
لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں مردم شماری کو وہ مقام اور وقعت کبھی حاصل نہ ہو سکی جو کے اس کو ہونی چاہیے تھی.  مزید یہ کے مردم شماری کو اس حد تک متنازع کر دیا جاتا ہے کے اس احسن کام کی افادیت اور کریڈیبلٹی پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں.سب سے زیادہ متنازع مردم شماری صوبہ سندھ کی ٹھرای جاتی ہے کیونکے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ مقامی اور غیر مقامی کا تنازعہ ہے.  صوبہ سندھمیں  اس گمبھیر مسلے کو سمجھنے کے لئے سندھ کو شیری اور دیہی کے تناظر میں دیکھنا ہو گا مجموعی طور پر پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 3.1 فیصد ہے جبکےشہری سندھ بلخصوص کراچی میں آبادی میں اضافے کی شرح 6.1 فیصدہے لیکن اب تک کی کی جانے والی 5 مردم شماریوں میں کراچی اور حیدر آباد کی آبادی کا تناسب اس حساب سے نہیں دکھایا گیا ہے اور اس ماملے  میں مجرمانہ سوچ کے ساتھ شرح آبادی کا تناسب کم کر کے کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کو اس کے اصل تناسب سے کم دکھا کر سندھ کی شہری آبادی کے ساتھ سوتیلی ماں والا رویہ اختیار کیا گیا ہے اور شہری آبادی کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا جس کی وجہ سے سندھ کی شہری آبادی میں احساس محرومی، دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا . اس نہ انصافی کی وجہ سے سندھ کی شہری آبادی  کے عوام جو کے پہلے ہی سے دیہی سندھ اور شہری سندھ کے کوٹا سسٹم کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے روزگار کے کم مواقع حاصل کر پاتے ہیں اس پر مرے کو مارے شاہ مدار کے مقولے کے مصداق مردم شماری میں شہری آبادی کو سازش کے تحت کم کر کے اس کوٹے کو مزید کم کر دیا جاتا ہے.  گو اس وقت ہم صرف مردم شماریپر بات کر رہے ہیں اس لئے کوٹا سسٹم کو جو ایک حد تک مردم شماری سے جڑا ہوا ہے اس لئے زیر بحث آ گیا . اس کے علاوہ صحیح مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں قومی اور صوبائی اسملیوں کی نشستوں کی تقسیم بھی نا انصافی کی ایک مثال ہے. ایک اندازے کے مطابق اس وقت سندھ کی 60 فساد سے زاید آبادی اس وقت سندھ کے شہروں میں آباد ہے اور سندھ کے شہروں کو صحیح اور جائز مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ میں پورا حصہ نہیں ملنے کی وجہ سے شہری علاقوں میں ترقیاتی اسکیمیں اس طرح سے مکمل نہیں ہو پاتیں جس طرح سے ہونی چاہیں.

نیے الیکشن میں منتخب ہنے والی جمہوری حکومت جو کے مسلم لیگ نوں سے تعلق رکھتی ہے اور میاں نواز شریف   نےاپنی پچھلی  وزارت عظمی میں بھی اس کار خیر کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن بد قسمتی کے ساتھ ١٩٩8 کی مردم شماری پاکستان کی تاریخ کی سب سے متنازع مردم شماری کی حیثیت حاصل رہی ہے. یہ مردم شماری اس حد تک مضحکہ خیز رہی کے اس اعداد و شمار کے مطابق نو شہرو فیروز کی آبادی 4  سو فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی تھی. شہری سندھ کو عوام کو اس موجودہ حکومت سے قوی امید ہے کے اس بار پھر مسلم لیگ نوں کی حکومت میڈم شماری کا عمل مکمل کرے اور اس طرح کا نظام اختیار کیا جائے جس میں کسی بھی فریق کو اعتراض نہ ہو اور نہ ہی کوئی فریق دوسرے فریق کے ساتھ دھاندلی کر سکے.  

Wednesday, August 21, 2013

Division of Sind Started? Who is responsible آغاز تقسیم سندھ؟ ذمےدار کون


تقسیم سندھ کا آغاز 
گو اس موضوع پر اس مجھ سے پیشتر بھی بارہا لوگوں نے قلم اٹھایا ہےا  ور اپنےاپنے نظریات  کی روشنی میں صفحات کو سیاہ کیا لیکن آج پھر سے یہ  ایشو سیاست کی بزم میں گرم ہے اس کی وجہ کل کی تاریخ میں میں سند اسمبلی سے پاس ہونے والا وہ لوکل باڈیز کا کالا  قانون ہے جس کی رو سے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نعرہ مستانہ یعنی  زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے برعکس عملی  نعرہ لگایا ہے کے زندہ ہے ضیاء زندہ ہے.

میری ناقص راۓ میں پاکستان پیپلز پارٹی جو کے ابھی حالیہ  عام انتخابات میں ایک عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی تھی اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کے اس انتخابات میں یہ راز بھی طشت ازبام ہوا کے پاکستان پیپلز پارٹی جو کے  اس  سےپہلے ایک وفاقی جماعت تصور کی جاتی تھی وہ ایک سندھ کی علاقائی جماعت بن کر سامنے آئ یا پھر سادہ الفاظ میں بلی تھیلے سے باہر آ گئی انیس سو ستر سے سندھ کے دیہی علاقے پیپلز پارٹی کا قلعہ تصور کے جاتے ہیں اور حقیقی معنوں میں ہیں بھی اس پر کوئی دو راۓ بھی نہیں لیکن آج تک اس ووٹ بنک ہنے کے جو تصورات راۓ عامہ میں پاے جاتے ہیں وہ حقیقت سے بہت دور ہیں جیسے کے اندروں سندھ پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک بھٹو فنومنا ہے اگر سطحی طور پر دیکھا جائے تو ہر شخص اس پر یقین بھی کر لیتا ہے. لکھن حقائق کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹیکے کریڈٹ پر جو بڑے کارنامے ہیں وہ ایک سندھی قوم پرست جماعت کے تو ہو سکتے ہیں لیکن ایک وفاق پسند سیاسی جماعت کے نہیں ہو سکتے.

 انیس سو بہترکا  لسانی بل
مہاجر  کش فسادات کی سرکاری سرپرستی
کوٹا سسٹم کا اطلاق 
بنیادی جمہوریتوں کے اداروں یعنی بلدیاتی اداروں کے انتخاب سے گریز 
کراچی اور حیدرآباد کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوے دیہی سندھ کے افسران اور منتخب نمائندوں کو کراچی اور حیدرآباد پر مسلط کرنا اور شیری سندھ کو کسی نوآبادیاتی نظام کی طرح چلانا 

یہ وہ چیدہ چیدہ عوامل ہیں جن کی رو سے ایک عام فہم انسان بھی اس جو کے کراچی اور حیدرآباد کا ساکن ہیں وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کے عملی طور  پر پاکستان پیپلز پارٹی ایک سندھی قوم پرست جماعت ہے اور  اس کی  سیاست کا محور  اندروں سندھ کے سندھی زبان بولنے والے ساکنان ہیں اور انہی مندرجہ بالا کارناموں کی بنیاد پر اندروں سندھ کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کی کی حمیت کرتے ہیں اسکو ووٹ کاسٹ کرتے ہیں گو یہ ایک کامیاب سیاسی حکمت عملی ہے جس ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں ایک واضح اکثریت کے ساتھ آتی رہی ہے لیکن اس حکمت عملیکی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں میں ایک احساس محرومی کا جنم ہو چکا ہے اور ہر گزارتے دن کے ساتھ یہ حکمت عملی سندھ کے ہر شہری علاقے کے ساکن کے دل میں اس احساس کو جنم دے رہی  ہے کے سندھ کے اس سیاسی انتظام میں اس کا کوئی حصہ نہیں جو کے ایک الارمنگ صورتحال ہے جسکے نتائج سندھ کے تاریخی ڈھانچے کی بنیادوں کو توڑ کر رکھ دیں گے اب تک کراچی اور حیدرآباد کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی فہم و فراست کی وجہ سے اس احساس کو تقویت نہ مل سکی لیکن کب تک آہستہ آھستہ یہ آواز ایک جائز مطالبے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے. اور ویسے بھی اس وقت پاکستان میں نیے صوبوں کے قیام اور وسائل کی مساوی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں جہاں تکمیرا اندازہ ہے کے بہت جلد یہ اس مترالبے کی بازگشت سندھ کے شہری علاقوں سے بھی سامنے آ جائے گی . اس تصور کو تقویت دینے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اس آمرانہ بلدیاتی نظام نے ایک مہمیز کا سا کام کیا ہے اب کراچی اور حیدرآباد کے ساکنان مختلف ہوٹلوں، ٹی اسٹالوں اور چوراہوں پر اس آپشن پر بات کرتے اور دلائل دیتے پاے جاتے ہیں.

ویسے بھی پاکستان کا آئین  پابند ہے کے تمام شہریوں کو بنیادی جمہوری حقوق یکساں طور پر حاصل ہیں اگر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ سامنے آیا تو اس بات کے قوی آثار ہیں کے اس مطالبے کو سندھ کے شہری علاقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہو گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی پر ہو گی.