لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں مردم شماری کو وہ مقام اور وقعت کبھی حاصل نہ ہو سکی جو کے اس کو ہونی چاہیے تھی. مزید یہ کے مردم شماری کو اس حد تک متنازع کر دیا جاتا ہے کے اس احسن کام کی افادیت اور کریڈیبلٹی پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں.سب سے زیادہ متنازع مردم شماری صوبہ سندھ کی ٹھرای جاتی ہے کیونکے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ مقامی اور غیر مقامی کا تنازعہ ہے. صوبہ سندھمیں اس گمبھیر مسلے کو سمجھنے کے لئے سندھ کو شیری اور دیہی کے تناظر میں دیکھنا ہو گا مجموعی طور پر پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 3.1 فیصد ہے جبکےشہری سندھ بلخصوص کراچی میں آبادی میں اضافے کی شرح 6.1 فیصدہے لیکن اب تک کی کی جانے والی 5 مردم شماریوں میں کراچی اور حیدر آباد کی آبادی کا تناسب اس حساب سے نہیں دکھایا گیا ہے اور اس ماملے میں مجرمانہ سوچ کے ساتھ شرح آبادی کا تناسب کم کر کے کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کو اس کے اصل تناسب سے کم دکھا کر سندھ کی شہری آبادی کے ساتھ سوتیلی ماں والا رویہ اختیار کیا گیا ہے اور شہری آبادی کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا جس کی وجہ سے سندھ کی شہری آبادی میں احساس محرومی، دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا . اس نہ انصافی کی وجہ سے سندھ کی شہری آبادی کے عوام جو کے پہلے ہی سے دیہی سندھ اور شہری سندھ کے کوٹا سسٹم کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے روزگار کے کم مواقع حاصل کر پاتے ہیں اس پر مرے کو مارے شاہ مدار کے مقولے کے مصداق مردم شماری میں شہری آبادی کو سازش کے تحت کم کر کے اس کوٹے کو مزید کم کر دیا جاتا ہے. گو اس وقت ہم صرف مردم شماریپر بات کر رہے ہیں اس لئے کوٹا سسٹم کو جو ایک حد تک مردم شماری سے جڑا ہوا ہے اس لئے زیر بحث آ گیا . اس کے علاوہ صحیح مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں قومی اور صوبائی اسملیوں کی نشستوں کی تقسیم بھی نا انصافی کی ایک مثال ہے. ایک اندازے کے مطابق اس وقت سندھ کی 60 فساد سے زاید آبادی اس وقت سندھ کے شہروں میں آباد ہے اور سندھ کے شہروں کو صحیح اور جائز مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ میں پورا حصہ نہیں ملنے کی وجہ سے شہری علاقوں میں ترقیاتی اسکیمیں اس طرح سے مکمل نہیں ہو پاتیں جس طرح سے ہونی چاہیں.
نیے الیکشن میں منتخب ہنے والی جمہوری حکومت جو کے مسلم لیگ نوں سے تعلق رکھتی ہے اور میاں نواز شریف نےاپنی پچھلی وزارت عظمی میں بھی اس کار خیر کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن بد قسمتی کے ساتھ ١٩٩8 کی مردم شماری پاکستان کی تاریخ کی سب سے متنازع مردم شماری کی حیثیت حاصل رہی ہے. یہ مردم شماری اس حد تک مضحکہ خیز رہی کے اس اعداد و شمار کے مطابق نو شہرو فیروز کی آبادی 4 سو فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی تھی. شہری سندھ کو عوام کو اس موجودہ حکومت سے قوی امید ہے کے اس بار پھر مسلم لیگ نوں کی حکومت میڈم شماری کا عمل مکمل کرے اور اس طرح کا نظام اختیار کیا جائے جس میں کسی بھی فریق کو اعتراض نہ ہو اور نہ ہی کوئی فریق دوسرے فریق کے ساتھ دھاندلی کر سکے.